بینک اسلامی کے تاریخی آئیڈیا کا تصور جہانگیر صدیقی اینڈ کمپنی لمیٹڈ اور رنڈیری خاندان کی جانب سے 2003 کے آخر میں پیش کیا گیا تھا۔ آئیڈئیے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے16 مارچ2004 کو جناب حسن اے بلگرامی کی مشیر اسپانسرز تقرری کی گئی۔ انہوں نے 24 مارچ2004 کو اسپانسرز کو بینک اسلامی کا تحریری تصور پیش کیا۔اس کے بعد ایک تفصیلی کاروباری منصوبہ تیار کیا گیا اور 26 مئی 2004 کواسٹیٹ بینک آف پاکستان کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی گئی۔26 ستمبر2005 کو دبئی بینک نے اسپانسرز میں شمولیت اختیار کی اورکل سرمائے میں 18.75% فیصد سرمایہ کاری کرکے بینک اسلامی کے بانی شراکت داروں میں سے ایک بن گیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر کسی تاخیر کے19 اگست 2004 کو ”این او سی“جاری کیا اور18 اکتوبر2004 کو بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ، پاکستان میں دوسرا بڑا مکمل اسلامی کمرشل بینک، پاکستان میں وجود میں آیا

 

بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈواحد بینک تھا جسے 2003 کی اسلامک بینکنگ پالیسی کے تحت 31 مارچ 2005 کو اسلامی بینکنگ لائسنس جاری کیا گیا۔ بینک کی بنیادی توجہ ویلتھ مینجمنٹ پر تھی کیوں کہ کاروبار کی مختلف صورتوں کے علاوہ شریعہ کمپلینٹ ریٹیل بینکنگ پروڈکٹس، پروپرائیٹری اور تھرڈ پارٹی پروڈکٹس اور انٹیگریٹڈ پلاننگ سروس

بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ نے 6 سے 8 مارچ 2006 کے دوران 400 ملین روپے کے مساوی عوامی پیشکش کی۔ یہ پاکستان میں ایک دہائی سے زائد کے عرصے میں بینک کا پہلا اجرا تھا۔ بینک اسلامی کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی کیوں کہ پیشکش سے9 گنا زائد درخواستیں موصول ہوئیں جو 400 ملین روپے کی طلب کے مقابلے میں 3.5 بلین روپے کے قریب تھیں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 17 مارچ2006 کو بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ کو شیڈول بینک قرار دیا

بینک اسلامی نے 7 اپریل 2006 کو سائٹ، کراچی کی برانچ سے اپنے بینکنگ آپریشنز شروع کیے۔

By the end of 2006, the Bank had 10 branches, nine in Karachi and one in Quetta.

بینک نے ملک بھر میں اپنا نیٹ ورک بنانے پر مزید توجہ دی اور 2007 کے آخر تک اس کا برانچ نیٹ روک بڑھ کر23 شہروں میں 36 برانچز تک ہو گیا

2008میں، بینک نے ملک بھر میں 66 مزید نئی برانچز کھولیں جس کے بعد49 شہروں میں اس کا نیٹ ورک بڑھ کر102 برانچز تک ہو گیا

2014 کے آخر میں بینک نے ملک بھر کے80 شہروں میں 213 برانچز قائم کرنے کا ہدف حاصل کر لیا۔ یہ بینک اسلامی کو پاکستان میں سب سے تیزی سے پھیلنے والے نیٹ ورک کے طور پر ممتاز کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی اسلامی بینک کے وسیع ترین نیٹ ورک کے طور پر پیش کرتا ہے۔
This gave BankIslami the distinction of having the fastest expanding network in Pakistan as well as offering the widest network by any Islamic Bank.

7 مئی 2015 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کسب بینک کی بینک اسلامی میں انضمام کی منظوری تھی۔ اس انضمام کے ساتھ ہی کسب بینک کی تمام 104 برانچز بینک اسلامی میں شامل ہو گئیں جس نے اسے صرف 9 سال کے مختصر عرصے میں 93 شہروں میں 317برانچز کا حامل ملک کا 11بڑا بینکنگ نیٹ ورک بنا دیا

اس وقت بینک کی پاکستان کے114شہروں میں 330 برانچز موجود ہیں۔

Subsidiaries Companies

 

  1. BankIslami Modaraba Investment Limited-100% holding

 

  1. BIPL Securities Limited – 77.12 % holding

Structured Ventures (Pvt.) Limited (The wholly owned subsidiary of BIPL Securities Limited)

www.biplsec.com

 

  1. My Solutions Corporation Limited – 100% holding

 

 

Associates - Unlisted

 

  1. Shakarganj Food Products Limited

www.shakarganjfood.com

 

  1. KASB Capital Limited

 

  1. KASB Funds Limited

 

  1. New Horizon Exploration & Production Limited